ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مجھے پارٹی چھوڑنے کیلئے مجبور کیا گیا، غلام نبی آزاد کا کانگریس پر الزام

مجھے پارٹی چھوڑنے کیلئے مجبور کیا گیا، غلام نبی آزاد کا کانگریس پر الزام

Tue, 30 Aug 2022 11:05:48    S.O. News Service

نئی دہلی ،30؍اگست (ایس او نیوز؍یو این آئی) کانگریس کے سینئر لیڈر رہے غلام نبی آزاد نے پیر کو ایک بار پھر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کے دیگر لیڈروں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ آزاد نے پیر کو کہا کہ ”بیمار“ کانگریس کو دعاکی نہیں دوا کی ضرورت ہے، اور اس کا علاج ’کمپاؤنڈر‘ کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے راجیہ سبھا میں اپنی میعاد ختم ہونے پر دیے گئے الوداعی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر آزاد نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ وزیر اعظم نے کسی کی پرواہ نہیں کی لیکن پھر بھی انہوں نے”انسانیت“کا مظاہرہ کیا۔

یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر آزاد نے الزام لگایا کہ جی 23 گروپ کی طرف سے خط لکھے جانے کے بعد انہیں پارٹی میں الگ تھلگ کر دیا گیا اور کئی دہائیوں سے اسٹار کمپینر رہنے کے باوجود انہیں مہم کمیٹی سے باہر رکھا گیا۔گھر والوں نے انہیں گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ جب لوگوں کو لگتا ہے کہ آپ کو وہاں نہیں رہنا چاہیے تو عقلمند آدمی وہ جگہ چھوڑ دیتا ہے۔ مسٹر مودی کی الوداعی تقریر کے دوران ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ کشمیر میں گجرات ٹورسٹ بس پر حملہ اس وقت ہوا تھا جب وہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے اور مسٹر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہاکہ جب مسٹر مودی نے مجھے فون کیا تو میں رو رہا تھا اس لیے میں ان سے بات نہیں کر سکا۔ مسٹر مودی کو راجیہ سبھا میں وہ جملہ یاد آیا اور ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ مسٹر مودی میرے لیے نہیں روئے اور میں ان کیلئے نہیں رویا۔ ہمیں وہ واقعہ پھر یاد آیا تو ہماری آنکھیں نم ہو گئیں۔ کیونکہ وہ منظر خوفناک تھا۔

تقریباً پانچ دہائیوں تک پارٹی میں رہے مسٹر آزاد نے الزام لگایاکہ مودی ایک بہانہ ہے، جب سے G23 کا خط لکھا گیا ہے، وہ ہمیں پسند نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ پارٹی سے بالاتر ہیں۔ وہ کسی مشورے پر کان نہیں دھرتے۔

وہ محترمہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ محترمہ اندرا گاندھی اور مسٹر راجیو گاندھی کے خاندان کے افراد ہیں۔ انہیں موجودہ قیادت کے کام کرنے کے انداز سے مسئلہ ہے۔ پارٹی میں گزشتہ 25 سال سے کوئی الیکشن نہیں ہوا ہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش کے ان کے ڈی این اے پر سوال اٹھائے جانے پر مسٹر آزاد نے کہا کہ جو شخص میرے ڈی این اے کی بات کر رہا ہے اس کا ڈی این اے کیا ہے۔ کیا یہ صرف میرے خلاف کہانی پلانٹ کرنے کیلئے ہے؟ وہ راجیہ سبھا میں بیٹھے بی جے پی ممبروں کو پرچی بھیجتے ہیں اور وہ میرے ڈی این اے کی بات کر رہے ہیں۔

خیال ر ہے کہ مسٹر آزاد نے گزشتہ جمعہ کو پارٹی کے تمام عہدوں کے ساتھ ساتھ بنیادی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔


Share: